BANDH LA HATH PA SINAY PA SAJA LAY TUM KO || Ghazal


Ghazal

Ghazal





باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو 
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو 

پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں 
کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو 

جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے 
گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو 

کیا عجب خواہشیں اٹھتی ہیں ہمارے دل میں 
کر کے منا سا ہواؤں میں اچھالیں تم کو 

اس قدر ٹوٹ کے تم پہ ہمیں پیار آتا ہے 
اپنی بانہوں میں بھریں مار ہی ڈالیں تم کو 

کبھی خوابوں کی طرح آنکھ کے پردے میں رہو 
کبھی خواہش کی طرح دل میں بلا لیں تم کو 

ہے تمہارے لیے کچھ ایسی عقیدت دل میں 
اپنے ہاتھوں میں دعاؤں سا اٹھا لیں تم کو 

جان دینے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہو 
ورنہ مر جائیں ابھی مر کے منا لیں تم کو 

جس طرح رات کے سینے میں ہے مہتاب کا نور 
اپنے تاریک مکانوں میں سجا لیں تم کو 

اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کسی موڑ پر تم 
ہم کو بکھرے ہوئے مل جاؤ سنبھالیں تم کو





Ghazal || Poetry Chain