BHOLA HOGA KHUDA GAR YAD HO GA || Ghazal


Ghazal

Ghazal





بھلا ہو گا خدا گر یاد ہو گا
یہاں بھولا وہاں برباد ہو گا

یہاں تدبیریں تیری کارگر ہیں
وہاں حیلہ نہ کوئی یاد ہو گا

لپیٹا جائے گا جب یہ تماشا
تماشا اصل اس کے بعد ہو گا

کرے گا غیر کیا تیرا مداوا
عمل تیرا نہ جو ہم زاد ہو گا

ملے ہمت کہ سجدوں میں رہوں میں
کوئی لمحہ کبھی تو صاد ہو گا

عوض دنیا کے حاصل کر خدا کو
کبھی ابرک نہ تو ناشاد ہو گ

۔۔۔۔۔ اتباف ابرک





Ghazal || Poetry Chain